پیر، 18 مئی، 2020

تعلیم کے حوالے سے صوبائی حکومت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پختون ایس ایف سوات


 تعلیم کے حوالے سے صوبائی حکومت کا رویہ غیر ذمہ دارنہ ہے۔ پختون ایس ایف سوات کے صدر شہاب باغی  

ضلعی جنرل سیکرٹری طارق حسین باغی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیم صوبائی سبجیکٹ ہے۔ تعلیمی پالیسی مرکزی حکومت کے طرف سےجاری کرنا غیر ذمہ دارانہ اور 18 آئینی ترمیم کے خلاف ورزی ہے۔ 

کرونا وباء اور کے لاک ڈاؤن کے وجہ سے تمام طلبہ کے فیسوں کو معاف کیا جائے۔ 

حکومت آن لائن کلاسسز شروع کرنے سے پہلے تمام طلبہ کو انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کرے اور خصوصاً نئی ضم شدہ اضلاع میں 3g/4g نیٹ کے سہولت فعال کیا جائے بصورت دیگر ہم آن لائن کلاسوں کے مخالفت کرینگے۔ 

 لاک ڈاون کے بازاروں سے ختم ہونے کی خبریں آرہے ہے۔اور تعلیمی ادارے بند ہے۔ کرونا وبا کےحوالے سے حکومت  کے غیر سنجیدگی کے بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

منگل، 12 مئی، 2020

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں معصوم بچوں کو نشانہ بنانا بُزدلانہ فعل ہے، پختون ایس ایف سوات


سوات (عصرِنو) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع سوات کے صدر شہاب باغی نے ننگرہار افغانستان میں بچوں کے ہسپتال پر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے اس مقدس مہینے میں معصوم بچوں کو نشانہ بنانا بُزدلانہ فعل ہے۔ 

جنرل سیکرٹری طارق حسین باغی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے پختون ایس ایف سوات اس بُزدلانہ حرکت کی مذمت کرتی ہیں۔

 اُنہوں نے کہا کہ غم کے اس گھڑی میں ہم اور ہمارے دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دست بہ دعا ہیں کہ رمضان کے اس مقدس اور بابرکت مہینے کی خاطر افغانستان میں امن آئے، کیوں کہ افغان قوم نے امن کی خاطر لازوال قربانیاں دی ہیں۔ 

ہفتہ، 2 مئی، 2020

پشتون تحفظ مومنٹ کے راہنماء عارف وزیر قاتلانہ حملے کے بعد ہسپتال میں انتقال کر گئے


جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کے کزن عارف وزیر ہفتے کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں چل بسے۔

وانا کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) عثمان خان نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ واضح رہے کہ حملے کے بعد انہیں علاج کے لیے اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

قبل ازیں ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ جمعہ کو عارف وزیر پر وانا کے قریب غواہ خواہ میں ان کے گھر کے باہر گاڑی میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی۔

عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ عارف وزیر کو گولی لگنے سے شدید زخم آئے تھے اور وہ تشویشناک حالت میں تھے۔

ابتدائی طور پر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں داخل کیا گیا لیکن بعد ازاں علاج کے لیے انہیں اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔

واضح رہے کہ عارف وزیر رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کے کزن تھے اور تقریباً ایک ماہ قبل ضمانت پر جیل سے رہا ہوئے تھے۔
علاوہ ازیں ایک رپورٹ کے مطابق واقعے پر موجود عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ عارف وزیر کے گارڈز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 02 حملہ آور بھی زخمی ہوئے تاہم مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

واضح رہے کہ عارف وزیر کے خاندان کے 07 لوگ سال 2007 میں وانا میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوچکے ہیں، جس میں ان کے والد سعداللہ جان اور انکل مرزا عالم بھی شامل تھے۔