جمعرات، 5 مارچ، 2020

ڈاکٹر سہیل کی کتاب ”باچا خان وژن آف الٹر نیٹیو ایجوکیشن“ امریکن کولمبیا یونیورسٹی میں نصاب کا حصہ بنادیا گیا


سوات (عصرِنو) صوبہ خیبر پختونخواہ کی ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل خان کی کتاب ”باچا خان وژن آف الٹر نیٹیو ایجوکیشن“ امریکن کولمبیا یونیورسٹی میں نصاب کا حصہ بنادیا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان کتاب کی خالق ڈاکٹر سہیل خان نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک اور ٹویٹر پر بھی کی، اور یہ بات اپنے لئے قابلِ اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ باچا خان سے متعلق پڑھنے یا لکھنے سے اُن کی طویل اور بامقصد زندگی کی کئی ابواب کھل کر ذہن کے سامنے آجاتے ہیں، جس پر انسان کو فخر ہونے لگتا ہے کہ اس تحریک سے وابستگی کتنے بڑی اعزاز کی بات ہے۔

دوسری جانب یہ خبر دیکھتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے اسے خوب سراہا اور ڈاکٹر سہیل کو مبارک باد دی۔  

منگل، 3 مارچ، 2020

تبدیلی سرکار نے عوام کو مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا، قاسم خان اشاڑی


عوامی نیشنل پارٹی تحصیل مٹہ کے صدر قاسم خان اشاڑی نے کہا ہیں کہ تبدیلی سرکار نے تبدیلی کے نام پر عوام کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ ملکی مسائل میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عوام حکومتی کارکردگی سے نالاں ہیں، اور اُن میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ 

اُنہوں نے کہا کہ حکوکت انتخابی مہم میں قوم سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرے کیوں کہ مہنگائی، بےروزگاری اور غربت کے خاتمے کےلیے عملی اقدامات وقت کا اہم تقاضا ہیں۔

اُنہوں نے ان خیالات کا اظہار عصرِنو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ دریں اثنا اُن کا کہنا تھا کہ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ روز بروز بڑھتی مہنگائی نے عوام کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے۔ آٹا، چینی سمیت اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، بجلی اورگیس کے نرخ بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ عوام پر نئے ٹیکس لگانے کےلیے مختلف حیلوں بہانوں سے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں جو ناقابل قبول ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے، انتظامیہ اور حکومت سب کا رویہ غیر سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عوامی فلاح و بہبود کی ارباب اقتدار کو کوئی پروا نہیں۔ 

اتوار، 1 مارچ، 2020

اٹھارہ سال کی طویل خون ریزی کے بعد جنگ بندی خوشی کا پیغام ہے، ایوب خان اشاڑی


سوات (عصرِنو) عوامی نیشنل پارٹی ضلع سوات کے صدر محمد ایوب خان اشاڑی نے امریکا اور طالبان کے درمیان قطر میں معاہدے پر دستخط ہونے پر افغان عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارہ سال کی طویل خون ریزی کے بعد جنگ بندی خوشی کا پیغام ہے، کیوں کہ افغان عوام نے اس دن کےلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے عصرِنو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے امید ظاہر کیا، کہ اٹھارہ سال کی طویل خون ریزی کے بعد جنگ بندی اور امن کی جانب ایک مثبت قدم پورے خطے اور بالخصوص افغان عوام کےلئے خوشی کا پیغام ہے، کیوں کہ اس دن کےلئے افغان عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں، لاکھوں افغان مہاجرین بے گھر ہوئے، ہزاروں نے جانوں کی قربانیاں دی اور آج نئی نسل کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ پُرامن افغانستان اب خواب نہیں، بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔