جمعہ، 3 اپریل، 2020

وزیراعظم ہاؤس کے سامنے شہری نے خود کو آگ لگا کر خودکشی کرلی


ذرائع کے مطابق شہری کے پاس سے وزیراعظم ہاؤس کو لکھا گیا خط بھی ملا جس میں تحریر تھا کہ میرا اتنا قصور ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور لوگوں سے بھی مانگا۔

پشاور (عصرِنو) وزیراعظم ہاؤس کے سامنے خود سوزی کرنے والا شہری پمز ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔

خط کے متن میں خود سوزی کرنے والے شہری نے حکومتی پارٹی کے ایک عہدیدار کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا کہ حکمران جماعت کےعہدیدار کے خلاف وزیراعظم سیکرٹریٹ درخواست بھی دی تھی۔

اس نے خط میں مزید بتایا تھا کہ میری درخواست سی پی او راولپنڈی کو مارک بھی کی گئی تھی، میں پیر ودھائی تھانہ گیا لیکن کارروائی نہیں کی گئی۔ خط کے متن شہری نے مزید تحریر کیا کہ میرے اوپر 20 لیٹر شراب کا جھوٹا پرچہ بھی کرایا گیا۔ 

دوسری جانب راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ خود سوزی کرنے والے پیر ودھائی کے رہائشی فیصل کے خلاف مری میں مقدمہ درج تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فیصل عباسی مری کا رہائشی تھا، اس کے خلاف 09 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کا مقدمہ گزشتہ برس 19 ستمبر کو درج ہوا تھا، جبکہ شراب کا کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔

جمعرات، 2 اپریل، 2020

سوات کے تحصیل مٹہ میں ایک ہی خاندان کے سات افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق


19 مارچ کو کورونا سے متاثرہ مریض پروفیسر فضل غفور نے بہا شنگرتان میں ایک جنازہ میں شرکت کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم کی میڈیا بریفنگ 

سوات (عصرِنو) ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم کے مطابق تحصیل مٹہ کے گاؤں بِہا شَنگرتان میں ایک ہی گھرانے کے سات افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتہ یعنی 19 مارچ کو اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے کورونا سے متاثرہ مریض پروفیسر فضل غفور نے ایک جنازے میں شرکت کی تھی، جس پر انتظامیہ نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے پورے گھرانے سے ٹیسٹ سامپل اسلام آباد بھیجے تھے۔ جن کے رپورٹ آج ضلع انتظامیہ کو موصول ہوئی، رپورٹ کے مطابق چار خواتین سمیت سات افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم نے پورے علاقے کو قرنطینہ قرار دے کر سیل کردیا گیا ہے، اور مزید سامپلنگ کےلئے ٹیمیں روانہ کی گئی ہے۔

بدھ، 1 اپریل، 2020

معروف شاعر اور محقّق شیر افضل خان بریکوٹی انتقال کرگئے


آپ ایک طویل، بامقصد، متحرک اور فعال ‏زندگی گزارنے کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

سوات (عصرِنو) پشتو زبان کے معروف شاعر، ادیب، محقّق اور دانشور شیر افضل خان بریکوٹی انتقال کر گئے۔ 

آپ نے 1925ء میں سوات کے مشہور اور تاریخی گاؤں بریکوٹ میں مہابت خان کے ‏ہاں آنکھ کھولی، لیکن والئی سوات سے ناراضگی کی خاطر اپنی جنم بھومی سوات کو خیر ‏باد‎ ‎کہہ کر روشنیوں کے شہر کراچی چلے گئے۔ 

کراچی میں مقیم اہلِ سوات کی تنظیم ‏‏’’مجلس پختون‘‘ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے اُنہوں نے وہاں مقیم پختونوں کی حقوق ‏کےلئے ایک توانا آواز بُلند کی۔ 

بعد ازاں کراچی سے انگلینڈ منتقل ہوگئے، اور وہی کے ‏ہوکر رہ گئے۔ مگر انگلینڈ میں بھی اُنہیں پختون قوم کی محرومیوں نے ایک پَل چھین سے ‏بیٹھنے نہیں دیا، اور ہر فورم پر پختونوں کی حقوق کےلئے آواز بلند کرتے رہے۔ ‏

موصوف کو لندن جیسے مصروف ترین شہر میں خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ‏خان عبدالقیوم خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان وغیرہ جیسے نامی گرامی شخصیات کی ‏میزبانی کا شرف حاصل رہا۔

بریکوٹی صاحب اردو اور پشتو میں شائع ہونے والی دس کتابوں کے مصنف تھے، اور ‏گزشتہ 60 سالوں سے برطانیہ میں مقیم تھے۔ اس دوران اُنہوں نے وہاں ایک متحرک ‏زندگی گزاری۔ مطالعہ اور تصنیف و تالیف تو اُن کا اوڑھنا بچھونا تھا ہی، لیکن اُنہوں نے ‏وہاں ایک بھرپور سماجی زندگی بھی گزاری۔ 

برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور بالخصوص ‏پختونوں کےلئے اُن کی بڑی خدمات ہیں۔ علم و ادب کے حوالے سے اُن کی تصنیفی ‏خدمات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس حوالے سے اُن کا نام تا دیر ‏زندہ رہے گا۔ ‏

اللہ تعالیٰ اُن کی لغزشوں کو معاف فرمائے، اُن کی روح کو اَبَدی سُکون سے نوازے اور ‏اُن کے پس ماندگان کو صبر جمیل دے، آمین!