بدھ، 3 جون، 2020

ضلع سوات میں پیٹرول کی قلت، عوام کو مشکلات کا سامنا


سوات (عصرِنو) ضلع سوات کے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قلت کا سامنا، رش کی وجہ سے کورونا ایس او پیز نظر انداز، انتظامیہ اور پولیس خاموش 

ضلع سوات کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی قلت نے شدت اختیار کرلی، پیٹرول نا ملنے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 یکم جون کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی گئی جس کے بعد مختلف نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آوٹ لیٹس پیٹرول نایاب ہوگیا، پمپس پر بائیک اور اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں نظر آئیں، اور مختلف پیٹرول پمپس مالکان نے پیٹرول پمپس بند کرکے پیٹرول نا ہونے کے بورڈ لگا دیئے۔ اس صورتحال پر عوام میں غم و پریشانی کی کیفیت نظر آرہی ہے، شہریوں نے ایسے پمپ مالکان کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

تحصیل مٹہ کے ایک پمپ میں لوگ پیٹرول کی حصول کےلیے قطار میں کھڑے ہیں

علاوہ ازیں جن پمپس پر پیٹرول دستیاب تھا، وہاں عوام کا زیادہ رش دیکھنے میں آیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد نقصان سے بچنے کےلیے پمپ مالکان کی جانب سے آئل کی خریداری نہیں کی گئی جس کے باعث شہر کے متعدد علاقوں میں پیٹرول کی دستیابی متاثر ہوئی۔

پیٹرول کی حصول کےلیے ٹریفک اہلکار بھی پمپ میں موجود ہے

اس پوری صورتحال میں پی ایس او کے تمام پمپس پر فیول دستیاب رہا تا ہم باقی ماندہ پمپس پر پیٹرول نا ملنے کے سبب پی ایس او پمپس پر بہت زیادہ رش کی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ اس حوالے سے ترجمان پی ایس او کی جانب سے جاری کیے بیان کے مطابق بھی پی ایس او کے پاس فیول کا تسلی بخش ذخیرہ موجود ہے اور ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی جاری ہے۔

منگل، 2 جون، 2020

کچھ اِنڈس کوئین کے بارے میں


ریاستِ بہاولپور کے نواب صادق محمد خان نے 1867ء میں ایک عالی شان بحری جہاز بنوایا، نواب فیملی یہ جہاز دریائے ستلج (جوکہ ریاست اور انگریز زیرِ انتظام علاقہ ملتان کے درمیان بہتا تھا) میں سیر و سیاحت کی غرض سے اپنے زیرِ استعمال لاتی رہی۔

 اس جہاز میں تین پورشن تھے۔ سب سے نچلے حصّے میں جہاز کا عملہ رہتا تھا، درمیانی حصہ نواب فیملی کےلیے مختص تھا، جہاں پر ایک بار روم بھی قائم تھا۔ جب کہ اوپر والے حصّہ کھلے یارڈ (صحن) پر مشتعمل تھا، جس پر ایک مسجد اور کپتان روم واقع تھا۔

 جہاز میں لائیٹ کےلیے جرنیٹر سسٹم نصب تھا۔ جہاز کو چلانے کےلیے طاقتور ڈیزل انجن لگا ہوا تھا۔ اپنے عروج کے زمانے میں انگریز اور میم صاحب نواب فیملی کے ساتھ جہاز میں سیر وسیاحت پر آتے رہتے تھے۔ بعد ازاں یہ جہاز نواب صادق محمد خان نے لودھراں اور بہاولپور کے درمیان مسافروں کی آمدورفت کےلیے مخصوص کر دیا۔

 جب پاکستان بننے کے بعد دریائی پانیوں کے معاہدے ہوئے تو ستلج میں پانی کم ہوا اور پُل کی تعمیر ہونا شروع ہوئی تو نواب نے 1957ء میں اسے غازی گھاٹ پر بھیج دیا، جہاں پر یہ ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ کے درمیان مسافروں کی آمدورفت کےلیے استعمال ہوتا رہا۔ تاہم پانی کے تیز بہاؤ کے پیشِ نظر نواب صاحب نے یہ جہاز خواجہ غلام فرید کی خدمت میں پیش کیا۔ جہاں پر یہ چاچڑاں شریف اور کوٹ مٹھن شریف کے درمیان عقیدت مندوں اور دیگر مسافروں کی باربرداری کےلیے استعمال ہوتا رہا۔ جسے قادر بخش نامی ملّاح (جو کہ محکمہ ہائی وے کا ملازم بھی تھا) چلاتا تھا۔

اِنڈس کوئین کا ایک یادگار تصویر

جب سردیوں میں دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا اور کشتیوں کا پُل ڈال کر آمدورفت کےلیے راستہ بنایا جاتا، تو اس جہاز کی ضروری مرمّت بھی کر دی جاتی۔ دریائے سندھ جس کو ”اِنڈس ریور“ بھی کہا جاتا ہے، میں چلنے کی وجہ سے اس جہاز کا نام ستلج کوئین سے تبدیل کرکے انڈس کوئین رکھ دیا گیا۔ 

1998 تک یہ جہاز دریائے سندھ میں چلتا رہا، لیکن جب بے نظیر برِج مکمل ہوا تو اس جہاز پر لوگوں کی آمدورفت بھی کم ہوتی چلی گئی۔ اس بحری جہاز کی سروس کو بند کرتے ہوئے راجن پور اور کوٹ مٹھن کے درمیان پل سے ذرا دور کرکے لنگر انداز کر دیا گیا، اور یوں ایک شاندار جہاز جس پر 400 کے لگ بھگ لوگ ایک وقت میں محوِ سفر ہوتے تھے، کا سفر اختتام پزیر ہو گیا ہے اور اب یہ اپنی بے بسی کی تصویر بنا ریت میں دھنسا پڑا ہے۔

پیر، 1 جون، 2020

تحصیل مٹہ کے نوجوانوں کی انسداد منشیات تحریک


گزشتہ کئی دنوں سے تحصیل مٹہ کے گاؤں برہ درشخیلہ کے نوجوانوں نے معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کےلیے ”انسداد منشیات تحریک“ کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں گیارویں رمضان المبارک کو رات گیارہ بجے حکیم زے برادران کے حجرہ برہ درشخیلہ میں ایک عظیم الشان جرگہ منعقد ہوا، جس کی میزبانی پشتو زبان و ادب کے درخشاں ستارے پروفیسر ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زے اور ان کے ہونہار بھتیجے سنگر خان نے کی۔ اس جرگے میں برہ درشخیلہ سے تعلق رکھنے والے مخلتف مکتبہ فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ 

یہ تحریک کیوں شروع کی گئی، جرگہ بلانے کا مقصد کیا تھا، جرگہ کے اغراض و مقاصد کیا ہے، جرگہ نے اب تک کیا کامیابیاں سمیٹی ہے؟ اس طرح کے ڈھیر سارے سوالات کے جوابات حکیم زے خاندان کے چشم و چراغ سنگر خان کے اِک مختصر سی انٹرویوں کی خلاصہ میں ذیل ملاحظہ ہو:

”ہم سات دوستوں نے اپنے گاؤں (برہ درشخیلہ) میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو قابو کرنے کےلیے ایک جرگے کی ضرورت محسوس کی۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اعتماد میں لینے کے بعد جرگہ بلانے کا حتمی فیصلہ ہوا، اور یوں ہم نے گیارویں رمضان المبارک کو رات گیارہ بجے جرگے کا اہتمام کیا۔ جرگے کو پروفیسر ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زے، سنگر خان، ڈاکٹر نواب شیر، ڈاکٹر نجیب، شاہد باز خان، نثار گران خان، شباب خان اور علی خان دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ جرگے نے 25 رکنی کمیٹی بنائی جس  نے اپنی مشترکہ اعلامیہ میں حکومت، انتظامیہ، پولیس، وکلاء اور سیاسی شخصیات سے کچھ مطالبات کیے جو کچھ یوں ہیں۔ 

☆ حکومتی مطالبات: حکومت ہر شہری کو سستا تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو روزگار فراہم کرنے کی مواقع پیدا کرے۔ ضلع میں تحصیل کی سطح پر ری ہیبیلیٹیشن سنٹر (Rehabilitation Center) قائم کرنے کےلیے عملی اقدامات اٹھایا جائے۔ معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کےلیے سخت سے سخت قانوں سازی کرکے اپنا کردار ادا کیا جائے۔ 

☆ انظامیہ سے مطالبات: انتظامیہ منشیات فروشوں اور ان کے حواری سرکاری افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ان کو نشان عبرت بنائے۔ 

☆ پولیس سے مطالبہ: پولیس انتظامیہ سے مل کر منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں اور ان پر مقدمات بناتے وقت ان میں ایسے دفعات شامل کیا جائے جو ناقابل ضمانت ہو۔ 

☆ وکلاء اور بار سے مطالبہ: وکلاء منشیات فروشوں کا کیس لڑنے سے معذرت کرکے ان کی دفاع کرنے سے گریز کریں۔ 

☆ سیاسی شخصیات سے مطالبہ: سیاسی شخصیات معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کی خاطر منشیات فروشوں کی ضمانت کرنے سے گریز کریں۔ 

☆ تعلیمی اداروں سے مطالبہ: تعلیمی ادارے منشیات کے خلاف شعور اجاگر کرنے کےلیے واک کا اہتمام کیا جائے۔ 

☆ آئمہ مساجد سے مطالبہ: آئمہ مساجد قرآن و حدیث کی روشنی میں منبر سے لوگوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ 

اسی طرح ہم برہ درشخیلہ کے تمام مساجد یعنی بر چم مسجد، کوز چم مسجد، میلہ گاہ مسجد، بر پلو مسجد، منز پلو مسجد، کوز پلو مسجد، سپینہ خپہ مسجد، منڈؤں مسجد اور دیگر مساجد گئے، جہاں لوگوں کو اپنے مشن سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر سینکڑوں لوگوں نے ہمارے موقف کی تائید کرتے ہوئے ہمارے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ کمیٹی ممبران نے خیرالحکیم وکیل حکیم زے، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد سلیم خان، قومی وطن پارٹی کے رہنماء تل حیات خان، سماجی شخصیات ڈاکٹر جاوید، ایوب ہاشمی اور سید شاکر علی سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے بھی ہمیں بھر پور سپورٹ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ 

سنگر خان نے انٹرویو میں آگے کہا کہ ہمارے اس تحریک کو سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی اور یہی وجہ ہے کہ ایس پی اپر سوات اور ایس ایچ او مٹہ نے یہاں (برہ درشخیلہ) آکر کمیٹی ممبران کے ساتھ ملاقات کی اور ہمیں مکمل تعاون کی یقین دلائی۔ اس تحریک نے بہت ہی قلیل عرصے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہے۔ کچھ منشیات فروشوں (جنہوں نے نام صیغہ راز میں رکھنے کی اپیل کی ہے) نے کمیٹی ممبران اور پولیس کے سامنے حلف نامے دے کر توبہ کرلی ہیں، اور کچھ ابھی تک رابطے میں ہیں۔  

ہم اپنے مطالبات کو منوانے کےلیے اعلی حکومتی عہدیداروں کے علاوہ صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ سے بھی ملاقات کرینگے، اور اس تحریک کو آگے مرحلہ وار تحصیل مٹہ کے ہر یونین کونسل اور پھر ضلع سوات کے کونے کونے  تک بڑھائیں گے، انشاءاللہ“

قارئین! کمال کی بات ہے، جوان ہی جوانوں کی اچھی صحت اور بہتر مستقبل کی سوچ میں مگن ہیں۔ ایک طرف جوانوں کو نشے کی لت پڑی ہے تو دوسری طرف ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شکل میں خدائی خدمت گاران ملک و قوم کے جوانوں کو نشے کی لعنت سے چھٹکارا دلا رہے ہیں۔ 
آفرین صد آفرین، ہمیں آپ پر ناز ہے اور ساتھ ہی یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ کا یہ جذبہ خیر دوسروں کےلیے مشعل راہ ثابت ہوگا۔ 
مل جل کے ارض پاک کو رشک چمن کریں 
کچھ کام  آپ کیجئے، کچھ  کام ہم  کریں 
                                         اختر حسین ابدالؔی