پیر، 9 نومبر، 2020

سُرخ پوش مارچ، تحریک انصاف کی قائدین اے این پی کو منانے باچا خان مرکز جائیں گے


ملاقات میں وفاقی وزیر اعجاز شاہ، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان بھی شریک ہوں گے، پرویز خٹک 

پشاور (عصرِنو) وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اسلام آباد کی جانب مارچ اور دھرنے کے اعلان کے تناظر میں پی ٹی آئی قائدین اے این پی کو منانے کےلیے باچا خان مرکز پشاور جائیں گے۔

ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیر داخلہ اعجاز شاہ بھی شریک ہوں گے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ملاقات میں اے این پی قیادت کو اسلام آباد میں دھرنا نہ دینے پر قائل کرنے اور گلے شکوے دور کریں گے، جب کہ اعجاز شاہ کے بیان سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات آج متوقع ہے جس میں وفاقی وزیر اعجاز شاہ اے این پی قائدین سے معافی مانگیں گے۔

جمعرات، 5 نومبر، 2020

باچا خان بابا اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ملاقات


خدائی خدمت گار اور باچا خان کا نام سنتے ہی عمومیت کے دل اور سوچ میں غدار اور پاکستان دُشمن کے کردار سامنے آجاتے ہیں، جو کہ بالکل تاریخ سے نا آشنائی اور تاریخ سے دُشمنی کا نتیجہ ہے۔

جناب شریف فاروق ایک کہنہ مشق صحافی ہیں، وہ ہیں تو پنجابی لیکن عالمِ شباب سے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارلحکومت پشاور میں مقیم ہیں۔ کئی معروف اخبارات کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں، جب کہ روزنامہ ”جہاد پشاور اور اسلام آباد“ کے مُدیر و مالک بھی ہیں۔ صوبہ خیبر پختون خوا کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی حالات پر کافی گہری نظر اور نشیب و فراز کےلیے جانے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے ایک کتابچے میں لکھا ہے کہ، ”خان عبدالغفار خان پر پاکستان دُشمنی، اسلام دُشمنی، مسلمانوں سے نفرت، نظریۂ پاکستان کی دُشمنی اور مضبوط مرکز (وفاق) کی مخالفت کے الزامات مختلف حیلوں اور بہانوں سے عائد کیے جاتے رہے ہیں، مگر تاریخ نے اپنے حتمی فیصلے سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب الزامات جھوٹ کا پلندہ تھے، دراصل الزامات عائد کرنے والوں کے مجرمانہ ضمیر کی صدائے باز گشت تھی۔“

ہمارے اس وطن میں باچا خان بابا پر یہ الزام بھی مشہور ہے کہ باچا خان کا سیاسی جُھکاؤ شخصیت کے اعتبار سے گاندھی کی طرف تھا، باچا خان قائد اعظم محمد علی جناح سے نفرت اور اُن سے ذاتیات کے بناء پر دور رہتے تھے۔ حالاں کہ باچا خان اس بات کا خود اعتراف کرتے ہیں کہ جب 1929ء میں اُنہوں نے خدائی خدمت گار تحریک کی بنیاد رکھی، تو اُنہوں نے سب سے پہلے دستِ تعاؤن مسلم لیگ اور محمد علی جناح کی طرف بڑھایا۔ مگر اُن کی غیر سنجیدگی اور انکار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے خدائی خدمت گاروں نے کانگرس میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا۔  

قائدِ اعظم محمد علی جناح سے ملاقات باچا خان کی پاکستان اور محمد علی جناح سے رشتے اور تعلق کی نوعیت بالکل صاف اور واضح کر دیتی ہے۔

23 فروری 1948ء کو باچا خان نے پاکستان کی پارلیمینٹ کے اجلاس میں پہلی مرتبہ شرکت کی، وہ چاہتے تو ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی کے حسبِ سابق رُکن رہ سکتے تھے، لیکن آپ نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں بطورِ رکن رہنے کو ترجیح دی اور وفاداری کا حلف اُٹھایا۔ جس پر بانی پاکستان محمد علی جناح بہت خوش ہوئے۔ اُنہوں نے باچا خان کو چائے پر مدعو کیا، دونوں رہنماؤں میں ملکی مفادات کے بارے میں گفتگو ہوئی، ماضی کی شکر رنجیاں اور چشمک کا دور لد گیا، جب کہ قائدِ اعظم اس حد تک مسرور تھے کہ اُنہوں نے باچا خان سے بِلا تکلف کہا کہ ”آج میرا پاکستان کا خواب پورا ہوا۔“

باچا خان کا کہنا تھا کہ قائدِ اعظم بڑے تپاک اور گرم جوشی سے ملے، مصافحہ کیا اور خلافِ معمول معانقہ بھی۔ وہ واپسی پر کار چھوڑنے آئے۔ اپنے ہاتھ سے کار کا دروازہ کھولا اور کار کی روانگی تک کھڑے رہے۔ قائدِ اعظم کے حسنِ اخلاق نے باچا خان کو بہت متاثر کیا۔ اس ملاقات کی کامیابی اور اس پر خوشی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم نے مزید گفت و شنید کےلیے اُنہیں اگلے ہی روز کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے کے بعد قائدِ اعظم باچا خان کو ایک علاحِدہ کمرے میں لے گئے جہاں ایک گھنٹے تک دونوں رہنماؤں کے درمیان پاکستان کے مستقبل بارے بات چیت ہوئی۔

قائد اعظم نے باچا خان سے پوچھا کہ، ”اب آپ کا کیا پروگرام ہے ۔۔۔؟“
جس پر باچا خان نے کہا کہ، ”اب آزادی حاصل ہوگئی ہے۔ میں خدائی خدمت گار کا پُرانا اصلاحی پروگرام شروع کرنا چاہتا ہوں۔“
باچا خان نے قائدِ اعظم کو خدائی خدمت گار تحریک کے اغراض و مقاصد بتائے اور واضح کیا کہ انگریزوں نے کس طرح اس سماجی تحریک کا رُخ سیاست کی طرف موڑا تھا۔ باچا خان کی باتیں سُن کر محمد علی جناح اپنی نشست سے بڑے پُر جوش انداز میں اُٹھ کر کھڑے ہوئے اور خلافِ عادت باچا خان کو گلے سے لگایا اور کہا کہ ” ایسے کام کےلیے میں بھی ہر قسم کی مدد کروں گا۔“
جس پر باچا خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ، ”مجھے صرف آپ کے اعتماد اور اخلاقی مدد کی ضرورت ہے۔“
قائدِ اعظم نے کہا کہ، ”میں ملک کا آئینی سربراہ ہوں۔ میری نظر میں سب جماعتیں یکساں حیثیت رکھتی ہیں۔“

اس ملاقات سے پاکستان کی سیاست میں ایک نئی خوش گوار صورتِ حال پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہونے لگے، باچا خان نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خوا) کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی جس کو محمد علی جناح نے قبول کیا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان پر مسلط طبقہ مفاد پرست ٹولہ تھا، اس لیے اُن کا مستقبل تاریک ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کے مفادات کو براہِ راست ٹھیس پہنچ رہی تھی۔ اس لیے سازشی ٹولہ نے سازشوں کے جال بچھانا شروع کر دئیے اور بعد میں یہی جماعت پاکستان مخالف اور غدار جماعت ٹھہرائی گئی، اور مستقبل میں اُن کے ساتھ کون سی رویے اور مظالم ڈھائے گئے، تاریخ ماضی کی اُن تمام کارستانی پر قلم بند ہے۔

تحریر: شاہد خان           

اتوار، 1 نومبر، 2020

یکم نومبر، جب ممتاز قوم پرست سیاست دان اور ”پختون قامی وحدت“ کے علمبردار محمد افضل خان لالا گزر گئے


عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر راہنما، پختون قامی وحدت کے علمبردار، سابق وفاقی و صوبائی وزیر اور وادی سوات میں شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت کی آواز خان محمد افضل خان لالا یکم نومبر 2015ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ 

وہ تقریباً ایک برس تک سوات کے طالبان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے شورش زدہ وادی میں اپنے آبائی مکان میں محصور رہے، لیکن اُسے چھوڑا نہیں۔

اُس شورش کے دوران اُنہیں کئی مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کے علاوہ اپنے دو نواسوں، ڈرائیور اور ملازم کے قتل جیسے خونی وار برداشت کرنا پڑے۔ تاہم اُن کا پایۂ استقلال پختہ تھا۔

جی او سی ملاکنڈ میجر جنرل نادر خان، افضل خان لالا کا استقبال کرتے ہوئے

افضل خان لالا نے ساٹھ کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا، ستر کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی کی جانب سے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خواہ) کے صوبائی وزیر رہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے دوسرے دورِ حکومت میں افضل لالا وفاقی وزیر برائے اُمورِ کشمیر بھی رہے، اُنیس سو ستانوے کے بعد سے اُنہوں نے انتخابی سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

موصوف کو پیپلز پارٹی کے تیسرے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ جانے پر ”ہلالِ شُجاعت“ سے بھی نوازا گیا تھا۔ آپ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ چھ کتابوں کے مصنف بھی تھے۔